Monday, 11 July 2022

محبت میں حیا کیسی حیا کی بات رہنے دو

 حیا کی بات رہنے دو 

سبھی وحشت زدہ سن لو 

محبت میں حیا کیسی

الم زادو

تمہارے نوحے تمہیں معشوق کرتے ہیں 

تمہیں پا لینے کی خواہش میں 

سبھی عاشق شرم کی آخری حد پر 

تمہارے ساتھ کی چاہ میں 

تمہارے بت کو توڑیں گے 

سبھی دائرے الاہنگیں گے 

تم حیا کی بات رہنے دو 

حیا زادی

تمہاری شرم گاہوں پر زمانہ شعر گھڑ لے گا 

تمہاری زلف کے خم سے پھندے بنا کر 

ان میں گردن پھنسا کر 

لٹک جانے کی قسمیں کھائے گا 

تمہیں جینا سکھائے گا 

تم اس کی محبوب ہو جانا 

شرم کیسی؟

حسیں عورت

تمہارے رنگ سے 

تمہارے روپ سے 

تمہاری چال سے 

تمہاری آنکھ سے مصور تصویر بنائے تو 

شرم کیسی؟ 

عشق زادے

تم اپنی بات کے پکے تھے 

تمہیں حرمت کی قسم کھا کر 

جس عورت نے جنما تھا 

تم اسی طرح کی ایک عورت کو 

پھنسا کر جال میں اپنے 

گھما کر سب سمتوں کو 

سبھی رستوں کو اپنی جانب موڑ کے 

مسکراتے ہو، فاتحانہ مسکراتے ہو 

پھر انگلی پر نچاتے ہو 

سبھی کاجل

سبھی غازہ 

لب و رخسار کی شوخی

سبھی کچھ

جب آہوں میں ڈھلتا ہے 

سو اس دم 

پلٹ کر تم

زمیں پر مار کر پاؤں 

مہکتے معشوق کے آنچل پہ کیچڑ ڈال دیتے ہو 

شرم کیسی؟

میرے پیارے

تمہارے جھوٹ کی قسم کھا کر 

میں یہ اعلان کرتی ہوں 

شرم کیسی

محبت میں حیا کیسی 

حیا کی بات رہنے دو


عظمیٰ طور

No comments:

Post a Comment