حیا کی بات رہنے دو
سبھی وحشت زدہ سن لو
محبت میں حیا کیسی
الم زادو
تمہارے نوحے تمہیں معشوق کرتے ہیں
تمہیں پا لینے کی خواہش میں
سبھی عاشق شرم کی آخری حد پر
تمہارے ساتھ کی چاہ میں
تمہارے بت کو توڑیں گے
سبھی دائرے الاہنگیں گے
تم حیا کی بات رہنے دو
حیا زادی
تمہاری شرم گاہوں پر زمانہ شعر گھڑ لے گا
تمہاری زلف کے خم سے پھندے بنا کر
ان میں گردن پھنسا کر
لٹک جانے کی قسمیں کھائے گا
تمہیں جینا سکھائے گا
تم اس کی محبوب ہو جانا
شرم کیسی؟
حسیں عورت
تمہارے رنگ سے
تمہارے روپ سے
تمہاری چال سے
تمہاری آنکھ سے مصور تصویر بنائے تو
شرم کیسی؟
عشق زادے
تم اپنی بات کے پکے تھے
تمہیں حرمت کی قسم کھا کر
جس عورت نے جنما تھا
تم اسی طرح کی ایک عورت کو
پھنسا کر جال میں اپنے
گھما کر سب سمتوں کو
سبھی رستوں کو اپنی جانب موڑ کے
مسکراتے ہو، فاتحانہ مسکراتے ہو
پھر انگلی پر نچاتے ہو
سبھی کاجل
سبھی غازہ
لب و رخسار کی شوخی
سبھی کچھ
جب آہوں میں ڈھلتا ہے
سو اس دم
پلٹ کر تم
زمیں پر مار کر پاؤں
مہکتے معشوق کے آنچل پہ کیچڑ ڈال دیتے ہو
شرم کیسی؟
میرے پیارے
تمہارے جھوٹ کی قسم کھا کر
میں یہ اعلان کرتی ہوں
شرم کیسی
محبت میں حیا کیسی
حیا کی بات رہنے دو
عظمیٰ طور
No comments:
Post a Comment