یہ چاندنی بھی جن کو چھوتے ہوئے ڈرتی ہے
دنیا انہی پھولوں کو پیروں سے مسلتی ہے
شہرت کی بلندی بھی پل پھر کا تماشہ ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو، وہ ٹوٹ سکتی ہے
لوبان میں چنگاری جیسے کوئی رکھ جائے
یوں یاد تِری شب پھر سینے میں سلگتی ہے
آ جاتا ہے خود کھینچ کر دل سینے سے پٹڑی پر
جب رات کی سرحد سے اک ریل گزرتی ہے
آنسو کبھی پلکوں پر تا دیر نہیں رکتے
اڑ جاتے ہیں یہ پنچھی جب شاخ لچکتی ہے
خوشرنگ پرندوں کے لوٹ آنے کے دن آئے
بچھڑے ہوئے ملتے ہیں جب برف پگھلتی ہے
بشیر بدر
No comments:
Post a Comment