Monday, 11 July 2022

یہ چاندنی بھی جن کو چھوتے ہوئے ڈرتی ہے

 یہ چاندنی بھی جن کو چھوتے ہوئے ڈرتی ہے

دنیا انہی پھولوں کو پیروں سے مسلتی ہے

شہرت کی بلندی بھی پل پھر کا تماشہ ہے

جس ڈال پہ بیٹھے ہو، وہ ٹوٹ سکتی ہے

لوبان میں چنگاری جیسے کوئی رکھ جائے

یوں یاد تِری شب پھر سینے میں سلگتی ہے

آ جاتا ہے خود کھینچ کر دل سینے سے پٹڑی پر

جب رات کی سرحد سے اک ریل گزرتی ہے

آنسو کبھی پلکوں پر تا دیر نہیں رکتے

اڑ جاتے ہیں یہ پنچھی جب شاخ لچکتی ہے

خوشرنگ پرندوں کے لوٹ آنے کے دن آئے

بچھڑے ہوئے ملتے ہیں جب برف پگھلتی ہے


بشیر بدر

No comments:

Post a Comment