کہا تو ہے کہ مرے مہربان چھوٹتی نئیں
ہمارے ہاتھ سے غم کی کمان چھوٹتی نئیں
میں عشق کر کے بھی فی الفور عشق کرتا ہوں
کہ میری عیب تنافر سے جان چھوٹتی نئیں
کششِ نہ ہو تو غزل کا وجود بے معنی
لہٰذا ہم سے تو اردو زبان چھوٹتی نئیں
میں کاروبار محبت میں مبتلا ہوں بہت
سو لگ رہا ہے یہ مجھ سے دکان چھوٹتی نئیں
کئے ہیں اتنے غلط کام زندگی نے جناب
یہ میرے حق میں بھی دے کر بیان چھوٹتی نئیں
ہوئے ہو ترکِ محبت میں آخرش ناکام
کہا نہیں تھا تجھے نوجوان چھوٹتی نئیں
ہوائیں زور لگاتی ہیں دوستو! مل کر
شکستہ شاخ سے پھر بھی مچان چھوٹتی نئیں
پھر ایک روز وہ دنیا بھی چھوڑ جائیں گے
جو کہہ رہے ہیں زمیں ساکنان، چھوٹتی نئیں
اعجاز توکل
No comments:
Post a Comment