Monday, 11 July 2022

کہا تو ہے کہ مرے مہربان چھوٹتی نئیں

 کہا تو ہے کہ مرے مہربان چھوٹتی نئیں

ہمارے ہاتھ سے غم کی کمان چھوٹتی نئیں

میں عشق کر کے بھی فی الفور عشق کرتا ہوں

کہ میری عیب تنافر سے جان چھوٹتی نئیں

کششِ نہ ہو تو غزل کا وجود بے معنی

لہٰذا ہم سے تو اردو زبان چھوٹتی نئیں

میں کاروبار محبت میں مبتلا ہوں بہت

سو لگ رہا ہے یہ مجھ سے دکان چھوٹتی نئیں

کئے ہیں اتنے غلط کام زندگی نے جناب

یہ میرے حق میں بھی دے کر بیان چھوٹتی نئیں

ہوئے ہو ترکِ محبت میں آخرش ناکام

کہا نہیں تھا تجھے نوجوان چھوٹتی نئیں

ہوائیں زور لگاتی ہیں دوستو! مل کر

شکستہ شاخ سے پھر بھی مچان چھوٹتی نئیں

پھر ایک روز وہ دنیا بھی چھوڑ جائیں گے

جو کہہ رہے ہیں زمیں ساکنان، چھوٹتی نئیں


اعجاز توکل

No comments:

Post a Comment