اس طرح تیری طرفداری نہیں کر سکتی
اب محبت میں اداکاری نہیں کر سکتی
عشق کے بیج کو سینے میں نہیں سینچوں گی
اب نئی کوئی شجر کاری نہیں کر سکتی
کیوں اسے کال کروں اتنی انا ہے مجھ میں
دل مِرے تیری میں دلداری نہیں کر سکتی
میں اثر سے تِرے اب دور نکل آئی ہوں
خود پہ افسوں میں طاری نہیں کر سکتی
لاکھ آسائشیں ہوں دور کے منظر میں مگر
اپنی اس خاک سے غداری نہیں کر سکتی
لبنیٰ صفدر
No comments:
Post a Comment