تم دل کی دل میں رکھو بتایا نہیں کرو
یوں کہہ کے داستان رُلایا نہیں کرو
مجھ سے بچھڑ کے رہتا ہے دلشاد ایک شخص
یہ من گھڑت کہانی سنایا نہیں کرو
آنکھوں کے گِرد حلقے پڑے جاگ جاگ کر
نیندوں کو میری ایسے اُڑایا نہیں کرو
میری غزل کا طول تمہارے سبب سے ہے
تم سوچ بن کے شعر میں آیا نہیں کرو
تارے شمار کرتی ہوں شب بھر فراق میں
تم دور مجھ سے جاں میری جایا نہیں کرو
کوشش کرو سبیلہ کی سب تم سے خوش رہیں
ناحق کسی کے دل کو دُکھایا نہیں کرو
سبیلہ انعام صدیقی
No comments:
Post a Comment