Wednesday, 21 July 2021

جھکا کے سر کو چلنا جس جگہ کا قاعدہ تھا

 جھکا کے سر کو چلنا جس جگہ کا قاعدہ تھا

مِرے سر کی بلندی سے وہاں محشر بپا تھا

قصور بے خودی میں جس کو سولی دی گئی ہے

ہمارے ہی قبیلے کا وہ تنہا سر پھرا تھا

اسے جس شب مدھر آواز میں گانا تھا لازم

روایت ہے کہ اس شب بھی پرندہ چپ رہا تھا

فرشتے دم بخود خائف سراسیمہ فضا تھی

ہجومِ گمرہاں تھا اور خدا کا سامنا تھا

مسافر جس کے رکنے کی توقع تھی زیادہ

نہ جانے کیوں بہت جلدی سفر پر چل دیا تھا


سراج اجملی

No comments:

Post a Comment