Friday, 8 April 2022

ٹلی ہے نہ اشکوں کی یلغار ہی

 ٹلی ہے نہ اشکوں کی یلغار ہی

ہے تازہ مِرے دل میں وہ نار ہی

ملاقات اس سے نہ ہوئی تو کیا

چلو پھر سے دیکھ آئیں گلزار ہی

طلب تھی گلوں کی جسے دوستو

ملے راستوں میں اُسے خار ہی

وہ دیکھے نہ دیکھے ہماری طرف

چلو ہم سنا آئیں اشعار ہی


لبنیٰ صفدر

No comments:

Post a Comment