حسن کو غایت نظر جانا
یہ مگر ان کو دیکھ کر جانا
کوئی آواز درد ناک آئی
چلنے والو ذرا ٹھہر جانا
لمحے لمحے کو بے کراں پایا
عمر کو عمر مختصر جانا
راحتوں پر بھی اپنا حق سمجھا
مشکلوں کو بھی ہمسفر جانا
جتنا بڑھتا گیا شعور ہنر
خود کو اتنا ہی بے ہنر جانا
ضمیر جعفری
No comments:
Post a Comment