Friday, 8 April 2022

حسن کو غایت نظر جانا

 حسن کو غایت نظر جانا

یہ مگر ان کو دیکھ کر جانا

کوئی آواز درد ناک آئی

چلنے والو ذرا ٹھہر جانا

لمحے لمحے کو بے کراں پایا

عمر کو عمر مختصر جانا

راحتوں پر بھی اپنا حق سمجھا

مشکلوں کو بھی ہمسفر جانا

جتنا بڑھتا گیا شعور ہنر

خود کو اتنا ہی بے ہنر جانا


ضمیر جعفری

No comments:

Post a Comment