دُکھ دیا تُو نے رُلایا ہے مجھے
عشق میں کتنا ستایا ہے مجھے
جس میں اشکوں کی بہت بُہتات تھی
شام نے قصہ سنایا ہے مجھے
تُو نے بے وُقعت کہا ہے یوں مجھے
گرد کی صورت اُڑایا ہے مجھے
دور رہ کر بھی میں اس کے پاس تھی
دور رہ کر اس نے پایا ہے مجھے
بارشوں کی طرح پھر برسا ہے وہ
سات رنگوں سے سجایا ہے مجھے
جن کو دن بھر بُھول کر بیٹھی رہی
رات کو پھر یاد آیا ہے مجھے
لبنیٰ صفدر
No comments:
Post a Comment