Saturday, 24 July 2021

پہچان کی تلاش یہاں ایک شیشم تھا

 پہچان کی تلاش


یہاں ایک شیشم تھا

ہوا میلوں سفر طے کرتی تھی

جس کے پتوں سے گفتگو کے لیے

اور یہاں ایک میدان

خامشی کے بدن میں مقیّد

اپنے وسیع دامن کے ساتھ

قدموں کی چاپ سنتا ہوا

یہاں ایک گلی تھی

تھک کے بیٹھی ہوئی

جس کی مہک تمام گلیوں سے جدا تھی

اور جس میں گونجتی قدموں کی مانوس آواز

میرے کانوں کے پردے پر بیٹھی رہ گئی

یہاں کبوتر اپنی پرواز ختم کرتے تھے

ایک مکان کی چھت پر

چڑیا اپنی دوپہر بانٹتی تھی

بنیرے اسے اپنا کاندھا پیش کرتے تھے

چہکار کا وزن اٹھانے کے لیے

یہاں ایک شہر بھی تھا

جس کی سڑکوں کے دل پہ

میں آوارگی کا بوجھ تھا

وہ اب کہیں نہیں ملتا

یہیں کہیں سینے میں ایک دل تھا

نہیں، وہ اب بھی ہے

جو بات بات پہ ڈوبنے لگتا ہے

یہاں ایک خواب تھا اور یہاں میں

ہم دونوں نے جگہ بدل لی ہے

سارا منظر ایک خواب بن گیا ہے

جس کی تعبیر کی تلاش

ایک گمشدہ شہر کی مانند ہے

اب میں شہر کو تلاش کروں گا

کہ خود سے مل پاؤں

میں جو کہیں دور نکل آیا ہوں

بے سمت کبوتروں کے تعاقب میں


ثاقب ندیم

No comments:

Post a Comment