جھوٹی باتوں سے کب بہلتی ہوں
آئینہ دیکھ کر نکلتی ہوں
یہ زمیں آسمان لگتی ہے
تیرے ہمراہ جب بھی چلتی ہوں
یہ ادا آپ کو مبارک ہو
میں نگاہیں نہیں بدلتی ہوں
غیر کے ساتھ دیکھ کر تم کو
بات سچی ہے میں تو جلتی ہوں
اس کے آنے کی دیر ہوتی ہے
میں بھی قوس وقزح میں ڈھلتی ہوں
اس کے لہجے کی آفرینی سے
موم بن کے سحر پگھلتی ہوں
سحر علی
No comments:
Post a Comment