شب بے ماہ بھی اس کی نہیں کالی ہو گی
جس نے کترن بھی تِرے نور کی پا لی ہو گی
لوگ کہتے ہیں کوئی تجھ سا حسیں اور بھی ہے
میں یہ کہتا ہوں؛ کہ یہ بات خیالی ہو گی
اس نے بھی مجھ کو یہی سوچ کے ڈھونڈا نہ کبھی
میں نے اب تک تو نئی دنیا بسا لی ہو گی
جب سنا ایک اندھیرا سا ہے گھر میں میرے
دُکھ سے بولے؛ مِری تصویر ہٹا لی ہو گی
ہیں پشیماں وہ معطّل تجھے کر کے اے دل
غم نہ کر، پھر اسی منصب پہ بحالی ہو گی
آٹھ دس سال میں منان! یہ اعجازِ سخن
تم نے کچھ عمرِ سخن اپنی چُھپا لی ہو گی
منان بجنوری
No comments:
Post a Comment