حیات کیا ہے یہ جانا بُرے حوالوں سے
رہا ہے واسطہ اپنا تباہ حالوں سے
کبھی تو یوں بھی ہوا جگنوؤں کے پاؤں پڑے
ہوئے ہیں خوار بہت رُوٹھ کر اجالوں سے
مزا تو جب ہے مخالف سے دوستی ٹھہرے
یہ کیا کہ دُشمنی رکھتے ہو ہمخیالوں سے
کوئی خبر بھی ہے کب گاؤں واپس آئیں گے لوگ
کواڑ پوچھتے رہتے ہیں گھر کے تالوں سے
نئے جہاں میں تقاضے ہیں منزلوں کے نئے
ہے ختم رشتۂ پا اب سفر کے چھالوں سے
نہ سمجھے کہہ دو فقط خود کو با کمال کوئی
ہر ایک شہر ہے معمور با کمالوں سے
غم آشنا ہی نہیں جس نے میرے نالوں کی
بجائے ندیوں کے دی ہے مثال نالوں سے
عجب تو یہ ہے وہ خود کم نہ تھے پلے ہیں جہاں
شکایتیں ہیں جنہیں آستیں کے پالوں سے
روا نہیں ہے سپاہِ قلم کو تلخ کلام
گریز چاہیے منان تیغ بھالوں سے
منان بجنوری
No comments:
Post a Comment