غزل جب سیف کہتا ہے روانی رقص کرتی ہے
سنو جیسے کوئی لڑکی دِوانی رقص کرتی ہے
کوئی وحشی سا چرواہا بجائے بانسری بَن میں
محل میں اس کی دھن پہ ایک رانی رقص کرتی ہے
سنا ہے چاند سے پریاں اتر آئی ہیں دھرتی پر
سنا ہے چاند پر بڑھیا پرانی رقص کرتی ہے
کوئی سکول کا بچہ کہیں جب چھپ کے روتا ہے
مِری آنکھوں میں بچپن کی چوانی رقص کرتی ہے
سُنا ہے شب کو اک سایہ گھڑے سے پار ہوتا ہے
سنا ہے سوہنی اب بھر کے پانی رقص کرتی ہے
ادھورے اس تعارف کا تماشا مل کے دیکھیں گے
ابھی انجام باقی ہے کہانی رقص کرتی ہے
صدا مانوس سی آئی کہاں جاتے ہو تنہا آج
جو پیچھے مڑ کے دیکھا تو جوانی رقص کرتی ہے
یہاں ہر آدمی کل کے سہانےخواب تکتا ہے
سبھی کے پیچھے آفت نا گہانی رقص کرتی ہے
کہو اس موت سے جا کر کرے نہ دیر آنے میں
الم کے راگ پر یہ زندگانی رقص کرتی ہے
وہ اک لڑکی جو بابل نے تھما دی غیر لوگوں کو
ابھی تک اس کے لب پہ بے زبانی رقص کرتی ہے
کبھی ناران آؤ تو ندی میں پیر تم دینا
پرندے گیت گاتے ہیں روانی رقص کرتی ہے
پیا نے پھیر لیں آنکھیں غموں نے گھیر لیں سانسیں
جٹھانی چپ کھڑی ہے دیورانی رقص کرتی ہے
امیرِ شہر کی چوکھٹ پہ رقصاں ہیں رقاصائیں
غریبِ شہر کے گھر میں گرانی رقص کرتی ہے
سیف خان
No comments:
Post a Comment