غم ہے جو رفیقِ شب ہے
صبح جاگتا ہوں اور خود سے پوچھتا ہوں میں
آج تو آئے گا مِرا وہ محبوب دلربا؟
شام کو غم میں ڈوب کے سسکیاں نکلتی ہیں
آج بھی نہ آیا وہ جس کا انتظار تھا
یہی تو غم ہے جو رفیقِ شب ہے مستقل
وہ شب جو سوچتے، جاگتے کاٹتا ہوں میں
پھر اس کے بعد نیند، خواب کچھ، رتجگے لیے
اداس، اک نئے دن سے جا لپٹتا ہوں میں
(Heinrich Heine)ہائنرش ہائنے
اردو ترجمہ: مقبول ملک
No comments:
Post a Comment