Thursday, 14 April 2022

اپنے دل کی عادت ہے شہزادوں والی

 اپنے دل کی عادت ہے شہزادوں والی

جلتی رکھتا ہے قندیل مرادوں والی

ویرانے پر بن برسا اک بادل ہوں میں

بوجھل آنکھیں اور صورت ناشادوں والی

پنکھ ہلا کر شام گئی ہے اس آنگن سے

اب اترے گی رات انوکھی یادوں والی

دل کے طاق میں روزانہ ہی سجاتا ہوں میں

اک دن دیکھی مورت سرخ لبادوں والی

اب تک میری آنکھوں میں گلزار کھلا ہے

دیکھی تھی وہ ساعت نیک ارادوں والی

کیوں نہ رہے اس دل میں اس کی کرچی

اک تمثیل جو دیکھی تھی فریادوں والی


انور سدید

No comments:

Post a Comment