Thursday, 14 April 2022

کوئی زنجیر طلسمات نہیں چھو سکتی

 کوئی زنجیرِ طلسمات نہیں چُھو سکتی

سچ کو اوہام کی بہتات نہیں چھو سکتی

میری ہستی ہے اندھیروں کی پہنچ سے باہر

میں سویرا ہوں مجھے رات نہیں چھو سکتی

یہ ہتھیلی ہے، وہ خوددار ہتھیلی صاحب

جس کو زردار کی خیرات نہیں چھو سکتی

آپ کے دل نے کبھی چوٹ نہیں کھائی ہے

آپ کے دل کو کوئی بات نہیں چھو سکتی

کیسے ہو سکتا ہے ہم جیسوں کے رہنے لائق

وہ نشیمن، جسے برسات نہیں چھو سکتی

ہے مِرا ہاتھ مِرے یار کے ہاتھوں میں سلیم

غم کی پرچھائیں، مِرا ہاتھ نہیں چھو سکتی


سردار سلیم

No comments:

Post a Comment