ابھی تو اور بھی مجھ کو عجیب ہونا ہے
کہ اپنے درد کا خود ہی طبیب ہونا ہے
مِرا وجود مِرے گھر میں فالتو ہو گا
یہ حادثہ مِرے گھر میں عجیب ہونا ہے
کہیں کہیں مجھے کرنی ہے خود پرستی بھی
بنے گا میرا مدینہ ہی کربلا میری
کہ مجھ کو اپنے وطن میں غریب ہونا ہے
ترابؔ جان سے جو تم کو مار ڈالے گا
وہ عشق ہونا ہے، اور عنقریب ہونا ہے
عطا تراب
No comments:
Post a Comment