Saturday, 2 April 2016

کبھی زیادہ کبھی کم رہا ہے آنکھوں میں

کبھی زیادہ کبھی کم رہا ہے آنکھوں میں
اک انتظار کا موسم رہا ہے آنکھوں میں
کبھی وہ خشک کبھی نم  رہا ہے آنکھوں میں
ٹھہر ٹھہر کے یہ زم زم  رہا ہے آنکھوں میں
بسا ہوا ہے تصور میں اک حسیں پیکر
کوئی خیال مجسم  رہا ہے آنکھوں میں
نظر کے سامنے آئی ہیں کتنی تصویریں
اسی کا عکس مگر رم  رہا ہے آنکھوں میں
وہ قربتوں کا تصور، وہ لمس کا جادو
سدا بہار یہ موسم  رہا ہے آنکھوں میں
الجھ کے رہ گئے نیندوں کے خواب پلکوں پر
کوئی خیال یوں پیہم  رہا ہے آنکھوں میں
لبِ خموش پہ میناؔ ہے نوحۂ ہجراں
درونِ ذات یہ ماتم  رہا ہے آنکھوں میں

مینا نقوی

No comments:

Post a Comment