کیسے لے جائیں کسی کو عشق کی گہرائی تک
سوز سے اپنے جلا لیتی ہے لب شہنائی تک
عشق کی لو آ گئی ہے روح کی گہرائی تک
کاش یہ شعلہ نہ پہنچے دامنِ رسوائی تک
لمحہ لمحہ اس کے آنے کا گماں ہوتا رہا
اک زمانہ تھا دھنک بکھری تھی میرے آس پاس
خون کے آنسو رلاتی ہے اب پروائی تک
اس طرح احساس نے میناؔ کِیا جذبوں کا قتل
محفلیں خود گھٹتے گھٹتے آ گئیں تنہائی تک
مینا نقوی
No comments:
Post a Comment