محبتوں میں وفا کا نصاب دے گا کون
اندھیری شب کے لیے آفتاب دے گا کون
تم اپنی نیند سے جاگو تو اک سوال کریں
کہ رت جگوں کا ہمارے حساب دے گا کون
اگر رہے گا یہی حال بے نیازی کا
تھکی تھکی سی نظر کو کہاں میسر تم
خزاں کے دور میں کھِلتا گلاب دے گا کون
دل و نظر میں کھٹکتے ہیں روز و شب میناؔ
کئی سوال کہ جن کا جواب دے گا کون
مینا نقوی
No comments:
Post a Comment