Saturday, 2 April 2016

محبتوں میں وفا کا نصاب دے گا کون

محبتوں میں وفا کا نصاب دے گا کون
اندھیری شب کے لیے آفتاب دے گا کون
تم اپنی نیند سے جاگو تو اک سوال کریں
کہ رت جگوں کا ہمارے حساب دے گا کون
اگر رہے گا یہی حال بے نیازی کا
تمہارے ہاتھ میں دل کی کتاب دے گا کون
تھکی تھکی سی نظر کو کہاں میسر تم
خزاں کے دور میں کھِلتا گلاب دے گا کون
دل و نظر میں کھٹکتے ہیں روز و شب میناؔ
کئی سوال کہ جن کا جواب دے گا کون

مینا نقوی

No comments:

Post a Comment