جب تعلق کو نبھانے کے بھی لالے پڑ جائیں
کیوں ہرن دشتِ محبت کے نہ کالے پڑ جائیں
چاہتیں کس طرح داخل ہوں گھروں کے اندر
دل کی دہلیز پہ نفرت کے جو تالے پڑ جائیں
سچ اگر کہہ دوں تو ہے دار و رسن کا خطرہ
تجھ کو آنے میں ہو تاخیر تو یہ ممکن ہے
تیری یادوں میں کہیں مکڑی کے جالے پڑ جائیں
رات رکھے گی بھرم اپنا کہاں تک میناؔ
رات اندھیروں کے تعاقب میں اجالے پڑ جائیں
مینا نقوی
No comments:
Post a Comment