Friday, 1 April 2016

چشم و دل ہی نہیں دیدار کی خواہش میں شریک

چشم و دل ہی نہیں دیدار کی خواہش میں شریک
دیکھئے موسمِ گل بھی ہے گزارش میں شریک
آج اسلوبِ محبت میں اکیلے نہیں ہم
شہر کا شہر ہے اس طرزِ نگارش میں شریک 
اب کے ساون بھی منایا ہے محرم کی طرح
چشمِ گریاں بھی رہی ہجر کی بارش میں شریک
اےمِری جانِ تمنا! یہ تمنا ہے مِری
دامنِ کوہ میں ہم دونوں ہوں بارش میں شریک
شیخ نے ایک زمانے کی عبادت کی ہے
اور رکھا ہے خدا کو بھی پرستش میں شریک
رنگ اڑتے ہوئے دیکھے ہیں گلابوں کے تراؔب
وہ پری چہرہ تھا پھولوں کی نمائش میں شریک

عطا تراب

No comments:

Post a Comment