کسی خدا کا نہ بھگوان کا پجاری ہوں
میں خود پرست ہوں انسان کا پجاری ہوں
نہ روک اپنی عبادت سے اپنے گھر میں مجھے
میں میزبان ہوں، مہمان کا پجاری ہوں
یہ اور بات کہ ممکن نہیں تمام امکان
مِرا جنون تعارف کرا رہا ہے مِرا
میں ابنِ عقل ہوں، بُرہان کا پجاری ہوں
دھڑکتے دل مجھے دل سے پسند ہیں لیکن
میں سوچتے ہوئے اذہان کا پجاری ہوں
تِرے سوا میں کہیں بھی نہ جھک سکوں کا ترابؔ
بھلے کہیں کہ میں شیطان کا پجاری ہوں
عطا تراب
No comments:
Post a Comment