Tuesday, 20 July 2021

بے بصر آفات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے

 بے بصر آفات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے

سر پھرے حالات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے

جو مِرے دشمن کو سمجھا کر گئی، کم ظرف ہے

یعنی کس کس بات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے

آج بیرونِ قفس صیاد کی پرواہ نہیں

آپ اپنی ذات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے

جشن کر میری تباہی پر کوئی شکوہ نہیں

بس تِری اوقات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے

ہم نشینی سے تِری ہر شب بہت شیرین تھی

جز تِرے اب رات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے

ظلم کا عادی ہوں زنجیری مِری پہچان ہے

خود لگائی گھات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے


بشیر دادا

No comments:

Post a Comment