یہ ہر وقت آندھی کا ڈر کس لیے ہو
مِری زیست لرزاں شجر کس لیے ہو
کوئی تہمتیں آپ پر بھی لگائے
ہر الزام میرے ہی سر کس لیے ہو
ہر اک ظلم ہنس کر کہاں تک سہیں ہم
ہر اک بات پر درگزر کس لیے ہو
کوئی بات میری نہیں مانتے تم
ہو ضدی مگر اس قدر کس لیے ہو
مِری شاعری راز اِفشا نہ کر دے
مِرے غم کی سب کو خبر کس لیے ہو
خدا کی سوا کس کے آگے جھکیں ہم
خدا کے سوا دل میں ڈر کس لیے ہو
اندھیروں سے ہم کو شکایت نہیں ہے
اندھیرے نہ ہوں تو سحر کس لیے ہو
کوئی تو مجھے گھر کا رستہ بتائے
"کوئی تو کہے، "در بدر کس لیے ہو؟
ہے انمول کو بس تِری ہی تمنا
کسی اور جانب نظر کس لیے ہو
عائشہ انمول
No comments:
Post a Comment