دل پہ ہر دم سحر رہتا ہے تمہاری بات کا
ملکیت میری مگر قبضہ تمہاری ذات کا
دن گزر جاتا ہے جیسے بھی تمہارے بن مگر
حال کیا تم کو سناؤں ہجر والی رات کا
عشق کے اس کھیل میں کھو کر تمہیں پانے کا فن
جیت والے کیا سمجھ پائیں نشہ اس مات کا
مدتوں مہکا رہا ہے لمسِ یاراں سے وجود
پھر کبھی نہ لوٹ کر آیا وہ پل برسات کا
اک تمہیں سمجھا تو دنیا بھی سمجھ آنے لگی
اک تمہیں پایا تو غم کم ہو گیا حالات کا
صائمہ شہاب
No comments:
Post a Comment