Friday, 16 April 2021

دل پہ ہر دم سحر رہتا ہے تمہاری بات کا

دل پہ ہر دم سحر رہتا ہے تمہاری بات کا

ملکیت میری مگر قبضہ تمہاری ذات کا

دن گزر جاتا ہے جیسے بھی تمہارے بن مگر

حال کیا تم کو سناؤں ہجر والی رات کا

عشق کے اس کھیل میں کھو کر تمہیں پانے کا فن

جیت والے کیا سمجھ پائیں نشہ اس مات کا

مدتوں مہکا رہا ہے لمسِ یاراں سے وجود

پھر کبھی نہ لوٹ کر آیا وہ پل برسات کا

اک تمہیں سمجھا تو دنیا بھی سمجھ آنے لگی

اک تمہیں پایا تو غم کم ہو گیا حالات کا


صائمہ شہاب

No comments:

Post a Comment