وہ حد محبت سے گزرنے نہیں دیتا
مرنا بھی جو چاہیں تو وہ مرنے نہیں دیتا
یہ اس کا وطیرہ ہے کہ سبقت وہ کسی کو
حاصل تو کسی طور بھی کرنے نہیں دیتا
بخشش پہ وہ آ جائے تو پھر رنج و الم کے
دریا کو کسی اور اترنے نہیں دیتا
کیا خوف مجھے درد کے صحراؤں میں ہو گا
اک اسم ہے ایسا کہ جو ڈرنے نہیں دیتا
یہ عشق جھمیلا جسے کہتے ہیں ثمینہ
دنیا کا کوئی کام سنورنے نہیں دیتا
ثمینہ سید
No comments:
Post a Comment