Wednesday, 9 December 2020

چپ رہیں اہل ہنر ان کے ہنر بولتے ہیں

 چپ رہیں اہلِ ہنر، ان کے ہنر بولتے ہیں

خود تو تتلی بھی نہیں بولتی، پر بولتے ہیں

گیت گائے کوئی لڑکی تو ہوں طائر حیراں

طائروں کی تو سب اقسام میں نر بولتے ہیں

اک کرن آس کی پھُوٹی تو یوں جذبے چہکے

جیسے پنچھی🕊 دمِ آغازِ سحر بولتے ہیں

گُنگ کر دیتا ہے دربار میں دستار کا بوجھ

جو نہ لے جائیں وہاں دوش پہ سر بولتے ہیں

اشک کے لُو لُوئے لا لا کی انہیں قدر کہاں

وہ جو اک سِیپ کی گُٹھلی کو گُہر بولتے ہیں

شعر کی کھوج میں چھان آتے اک دنیا کو

کاوشِ فکر کو ہم سیر و سفر بولتے ہیں

چاندنی پھُوٹتی ہے اس کے بدن سے اصغر

ہم تو جاناں کی کمر کو بھی قمر بولتے ہیں


نجم الاصغر

No comments:

Post a Comment