Wednesday, 9 December 2020

جو میری خواہشوں کو دھمال دے

 جو میری خواہشوں کو دھمال دے

ہاتھ تھام کر مجھے جو لمس کا وصال دے

میری خاموشی کو ملے زباں میری ذات کو سکوں ملے

میری سوچ کو وہ سن سکے میرے ساتھ چلے قدم قدم

میری مسکراتی ہوئی آنکھ سے وہ میرے آنسو چن سکے

میرے پیار کی ہر ان کہی کو بہت پیار سے وہ سن سکے

اذیتوں سے نکال کر مجھے وحشتوں سے بچائے وہ

مجھے اپنی ذات کا مان دے میری خواہشوں کو لباس دے

تنگ پڑے جو زمیں مجھے میری ذات جب بھی نڈھال ہو

میرا ہاتھ تھام کر مجھے سبھی مشکلوں سے نکال دے


راحیلہ بیگ چغتائی

No comments:

Post a Comment