جو میری خواہشوں کو دھمال دے
ہاتھ تھام کر مجھے جو لمس کا وصال دے
میری خاموشی کو ملے زباں میری ذات کو سکوں ملے
میری سوچ کو وہ سن سکے میرے ساتھ چلے قدم قدم
میری مسکراتی ہوئی آنکھ سے وہ میرے آنسو چن سکے
میرے پیار کی ہر ان کہی کو بہت پیار سے وہ سن سکے
اذیتوں سے نکال کر مجھے وحشتوں سے بچائے وہ
مجھے اپنی ذات کا مان دے میری خواہشوں کو لباس دے
تنگ پڑے جو زمیں مجھے میری ذات جب بھی نڈھال ہو
میرا ہاتھ تھام کر مجھے سبھی مشکلوں سے نکال دے
راحیلہ بیگ چغتائی
No comments:
Post a Comment