Wednesday, 9 December 2020

وہ جو روپ زیر نقاب تھا

 وہ جو روپ زیرِ نقاب تھا

اسے دیکھنا میرا خواب تھا

جو ملا تھا ہجر کی شکل میں 

میری چاہتوں کا عذاب تھا

یہ سوال تھا کہ؛ ملا کرو

نہ ملا کرو، جواب تھا

جسے دیکھ کر میں تڑپ اٹھا

تیری آنکھ میں وہ حجاب تھا

میری پیاس تھی تیری تشنگی

تیرے پاس جامِ شراب تھا

تیرا پیار تھا میری شاعری

تیرا عشق میرا نصاب تھا


نامعلوم

No comments:

Post a Comment