Wednesday, 9 December 2020

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

 پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

آئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیں

وصل کا لطف مجھے وصل سے پہلے ہی ملا

جب کہا یار نے گھبرا کے یہ کیا کرتے ہیں

اس قدر تھا مجھے الفت میں بھروسا ان پر

کی جفا بھی تو یہ سمجھا کہ وفا کرتے ہیں

ہے یہی عرض خدا سے کہ فلاں بت مل جائے

وہی اچھے جو نمازوں میں دعا کرتے ہیں

لب کسی کے جو ہلے کان اِدھر دھیان اُدھر

دل لگا کر وہ مرا ذکر سنا کرتے ہیں

صبح کو دیکھ کے آئینہ میں بوسے کا نشاں

مسکراتے ہوئے ہونٹوں میں گِلا کرتے ہیں

کیسے کیسے مجھے بے ساختہ ملتے ہیں خطاب

غصہ آتا ہے تو کیا کیا وہ کہا کرتے ہیں

کیا ہوا مجھ کو رقیبوں نے اگر دی تعظیم

تیری محفل میں تو فتنے ہی اٹھا کرتے ہیں

کان باتوں کی طرف آنکھ ہے کاموں کی طرف

ہو کے انجان مرا ذکر سنا کرتے ہیں

چین پیشانی پہ ہے، موجِ تبسم لب میں

ایسے ہنس مکھ ہیں کہ غصے میں ہنسا کرتے ہیں

بس تو چلتا نہیں کچھ کہہ کے انہیں کیوں ہوں ذلیل

ہم تو اپنا ہی لہو آپ پیا کرتے ہیں

اس اشارے کے فدا ایسے تجاہل کے نثار

مار کر آنکھ وہ منہ پھیر لیا کرتے ہیں

جلسے ہی جلسے ہیں جب سے وہ ہوئے خود مختار

کوئی اتنا نہیں کہتا کہ؛ یہ کیا کرتے ہیں

عاشقانہ ہے عقیدہ بھی ہمارا مائل

لے کے ہم نامِ بتاں ذکرِ خدا کرتے ہیں


احمد حسین مائل

No comments:

Post a Comment