Wednesday, 9 December 2020

دل یہ برہم ہے کیا کیا جائے

 دل یہ برہم ہے کیا کیا جائے

ضبط بھی کم ہے کیا کیا جائے

بعد وصلت بھی زخم ہجر مرا

نہ ہوا کم ہے کیا کیا جائے

اب نہیں یاس اور کوئی حسرت

بس یہی غم ہے کیا کیا جائے

رنجشیں ختم تو ہوئیں لیکن

دوری باہم ہے کیا کیا جائے

روح بے زار، ہیں خفا سانسیں

دل بھی برہم ہے کیا کیا جائے


دانش حلیم

No comments:

Post a Comment