دل یہ برہم ہے کیا کیا جائے
ضبط بھی کم ہے کیا کیا جائے
بعد وصلت بھی زخم ہجر مرا
نہ ہوا کم ہے کیا کیا جائے
اب نہیں یاس اور کوئی حسرت
بس یہی غم ہے کیا کیا جائے
رنجشیں ختم تو ہوئیں لیکن
دوری باہم ہے کیا کیا جائے
روح بے زار، ہیں خفا سانسیں
دل بھی برہم ہے کیا کیا جائے
دانش حلیم
No comments:
Post a Comment