Monday, 7 December 2020

بارشوں کے موسم میں اک بارش بے آب

 بارشوں کے موسم میں اک بارشِ بے آب


وہ بے پانی کی بارش تھی

نہ کوئی برگ گُل بھیگا، نہ کوئی پیڑ کا پتہ

نہ اس کی زد میں کوئی گھونسلہ آیا، نہ کوئی شہد کا چھتہ

مرا تن بھیگتا جاتا تھا البتہ

وہ بارش کیسی حیرانی کی بارش تھی

گھٹا جب گھِر کے آتی ہے

درودیوار پر، اشجار پر، ہر پھول پر، ہر خار پر

بے جان پر، جاں دار پر یکساں برستی ہے

کشادہ ہوتا ہے داماں ہمیشہ ابرِ رحمت کا

مگر وہ ابرِ نادیدہ فقط مجھ پر ہی کیوں برسا

وہ کیسی تنگ دامانی کی بارش تھی

معالج سے ملا تو اس نے سمجھایا

بخارات اٹھتے رہتے ہیں ہمیشہ دل کے ساگر سے

کسی کی سرد مہری حد سے بڑھتی ہے

تو یہ تبخیر بھی تکثیف کے فطری مدارج سے گزرتی ہے

پھر اک گہری گھٹا بن کر امڈتی ہے

تیرا تن جس سے بھیگا تھا

ترے اندر کے ہی اک ابر نیسانی کی بارش تھی

وہ تجھ پر خود ترے اندرکی خواہش ہائے نفسانی کی بارش تھی

وہ اک انسان پر کچلے ہوئے جذباتِ انسانی کی بارش تھی

وہ رم جھم حسرتوں کی تھی سو بے پانی کی بارش تھی


نجم الاصغر

No comments:

Post a Comment