Sunday, 6 December 2020

زندگی سے ڈرتے ہو

 زندگی سے ڈرتے ہو


زندگی کلیسا کی

راہبہ نہیں کوئی

جاء نماز پر بیٹھی

زاہدہ نہیں کوئی

زندگی ہے اک چنچل

بے حجاب رقاصہ

ہاتھ تھام کے جس کا

رقص گاہِ عالم میں

ناچتا ہے ہر انساں

تم بھی اس حسینہ کو

بازوؤں کے گھیرے میں

لے کے بے قراری سے

رقص کیوں نہیں کرتے؟

نرتکی سے ڈرتے ہو؟

اس سے تم نہیں ڈرتے

مولوی سے ڈرتے ہو

مذہبی جنونی کی

دشمنی سے ڈرتے ہو

وہ مصوری ہو

یا شاعری و موسیقی

ہر لطیف فن کو وہ

کم نظر فتاویٰ گر

کافری سمجھتا ہے

تم عجب سپاہی ہو

رائفل کی نالی سے

تم کو ڈر نہیں لگتا

بانسری سے ڈرتے ہو

جس سے وہ ڈراتا ہے

تم اسی سے ڈرتے ہو

زندگی بدن کا رقص

دھڑکنوں کا سازینہ

ساز سے تمہیں نفرت

رقص سے تمہیں نفرت

شعر سے تمہیں نفرت

حسن سے تمہیں نفرت

خوف، نفرتوں کی جڑ

یار! تم اگر اتنا ہی

زندگی سے ڈرتے ہو

مر کیوں نہیں جاتے؟

خودکُشی سے ڈرتے ہو؟


نجم الاصغر

No comments:

Post a Comment