Friday, 2 June 2023

یہ جستجو میں نہ جانے کس کی چراغ آنکھوں کے جل رہے ہیں

 یہ جستجو میں نہ جانے کس کی چراغ آنکھوں کے جل رہے ہیں

کہ قید ہستی سے ہم نکل کر افق کی راہوں پہ چل رہے ہیں

یہ وقت جانے عذاب کیسے شدید مجھ پر اتارتا ہے

یہ چاند تارے حسین منظر نظر میں جیسے پگھل رہے ہیں

کہیں امیدوں کی یہ قناتیں جو ٹوٹتیں تو غضب ہی ہوتا

مِرے عزائم مِرے ارادے بلندیوں پر سنبھل رہے ہیں

کسے خبر تھی کہ رت خزاں کی وجود میں ہے رچی بسی سی

تلاش فصل بہار میں ہم فنا کی راہوں پہ چل رہے ہیں

مِری انا پر یہ وار گہرا نہ جانے کس نے کیا ہے آصف

جو اشک آنکھوں میں آ رہے ہیں لہو کے قطروں میں ڈھل رہے ہیں


آصف دسنوی

No comments:

Post a Comment