یہ جستجو میں نہ جانے کس کی چراغ آنکھوں کے جل رہے ہیں
کہ قید ہستی سے ہم نکل کر افق کی راہوں پہ چل رہے ہیں
یہ وقت جانے عذاب کیسے شدید مجھ پر اتارتا ہے
یہ چاند تارے حسین منظر نظر میں جیسے پگھل رہے ہیں
کہیں امیدوں کی یہ قناتیں جو ٹوٹتیں تو غضب ہی ہوتا
مِرے عزائم مِرے ارادے بلندیوں پر سنبھل رہے ہیں
کسے خبر تھی کہ رت خزاں کی وجود میں ہے رچی بسی سی
تلاش فصل بہار میں ہم فنا کی راہوں پہ چل رہے ہیں
مِری انا پر یہ وار گہرا نہ جانے کس نے کیا ہے آصف
جو اشک آنکھوں میں آ رہے ہیں لہو کے قطروں میں ڈھل رہے ہیں
آصف دسنوی
No comments:
Post a Comment