Friday, 2 June 2023

دیکھا جو ایک شخص عجب آن بان کا

 دیکھا جو ایک شخص عجب آن بان کا

اک سلسلہ سا رہتا ہے ہر وقت دھیان کا

بے سوچے سمجھے گھر سے جو یوں ہی نکل پڑے

اب ڈھونڈتے ہیں سایہ کسی سائبان کا

کوئی نہیں ہے ایسا کہ اپنا کہیں جسے

کیسا طلسم ٹوٹا ہے اپنے گمان کا

بستی میں ہیں پہ ایسے کہ سب سے جدا ہیں ہم

اچھا تھا خبط ہم کو بھی اونچے مکان کا

موج نفس کے ساتھ رہے رشتۂ امید

دھڑکا سا ورنہ رہتا ہے ہر وقت جان کا

ظالم خدا سے ڈر کہیں بجلی نہ گر پڑے

مشکل بہت ہے گرنا اگر آسمان کا

جس گھر میں ہنستے کھیلتے گزری ہے ایک عمر

رشتہ بھی اب تو یاد نہیں اس مکان کا

ناکامیوں کو ہم نے مقدر بنا لیا

اب ڈر نہیں رہا ہے کسی امتحان کا

نادر وہ کب بلاؤں کو خاطر میں لاتے ہیں

رکھتے ہیں جو بھی حوصلہ اونچی اڑان کا


اطہر نادر

No comments:

Post a Comment