Friday, 2 June 2023

تجھے پا کر بھی جب کوئی کمی محسوس ہوتی ہے

 تجھے پا کر بھی جب کوئی کمی محسوس ہوتی ہے

تو پھر یہ سانس بھی رکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے

جو کہنا ہی نہیں اس کا اشارہ کیوں دیا جائے

کہ ایسی بات تو کچھ اور بھی محسوس ہوتی ہے

عدیم الفرصتی شدت سے اس کا یاد آ جانا

غنیمت ہے اگر یہ تشنگی محسوس ہوتی ہے

پلٹ کر آ گئے ہو تم تو کیوں آئے نہیں لگتے

تمہاری آنکھ میں کیوں گرد سی محسوس ہوتی ہے

وگرنہ بوجھ ہے جس کو لئے پھرنا ہے کاندھے پر

کریں محسوس تو یہ زندگی محسوس ہوتی ہے

شجر وہ بھی جسے سینچا ہو اپنا خون دے دے کر

کبھی اس کی بھی چھاؤں اجنبی محسوس ہوتی ہے

یہ میرے خواب ہیں جو سایہ کرتے ہیں مِرے سر پر

مجھے اس دوپہر میں چھاؤں سی محسوس ہوتی ہے

کسی کی گفتگو کے درمیاں اکثر نہ جانے کیوں

کہیں گہری سی کوئی خامشی محسوس ہوتی ہے

زمیں تیری طرح میں بھی سفر میں ہوں کہ جیسے تو

کبھی ٹھہری نہیں ٹھہری ہوئی محسوس ہوتی ہے


خالد محمود ذکی

No comments:

Post a Comment