Friday, 1 January 2021

عشق بھی محدود ہے اب کھیل تک

 عشق بھی محدود ہے اب کھیل تک

میرا اس کا میل ہے ای میل تک

گھر کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

صحن میں مرجھا چکی ہے بیل تک

کیا کروں اپنی سپہ پر انحصار

سارے بدعنوان ہیں جرنیل تک

شہر میں اب مانگ ہی باقی نہیں

ہم نے خوابوں کی لگائی سیل تک

کیا کروں ‌طارق؟ زمانہ تو کجا

مجھ سے روٹھی ہے مِری رابیل تک


طارق ہاشمی

No comments:

Post a Comment