عشق بھی محدود ہے اب کھیل تک
میرا اس کا میل ہے ای میل تک
گھر کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
صحن میں مرجھا چکی ہے بیل تک
کیا کروں اپنی سپہ پر انحصار
سارے بدعنوان ہیں جرنیل تک
شہر میں اب مانگ ہی باقی نہیں
ہم نے خوابوں کی لگائی سیل تک
کیا کروں طارق؟ زمانہ تو کجا
مجھ سے روٹھی ہے مِری رابیل تک
طارق ہاشمی
No comments:
Post a Comment