Saturday, 2 January 2021

اسم وفا کھو جائے تو

 اسمِ وفا کھو جائے تو

دل، دنیا ہو جائے تو

آنکھ میں خواہش کا دہقان

خواب کوئی بو جائے تو

نقش ہے دل پر داغِ جنوں

وقت اگر دھو جائے تو

جنگل جادو کر ڈالے

شہر ہوا ہو جائے تو

دل دسواں سیارہ ہے

کوئی وہاں کو جائے تو

بے چینی جاگ اٹھتی

درد ذرا سو جائے تو


طارق ہاشمی

No comments:

Post a Comment