Sunday, 18 April 2021

درد کرتا ہے سفر آنکھ کے اندر کی طرف

 درد کرتا ہے سفر آنکھ کے اندر کی طرف

اشک گرتے ہیں مگر آنکھ کے اندر کی طرف

جس سے کچھ لوگ گزرتے ہیں سرِ قریۂ جاں

کہیں کھُلتا ہے وہ در آنکھ کے اندر کی طرف

دل کے پاتال میں سو درد نظر آئیں گے

جھانک کچھ اور مگر آنکھ کے اندر کی طرف

تُو نے مژگاں پہ جہاں نام لکھا دیکھا تھا

اسی کُوچے میں ہے گھر آنکھ کے اندر کی طرف

میرے دل سے وہ کبھی جا نہیں سکتا باہر

کوئی آ جائے اگر آنکھ کے اندر کی طرف

جا نکلتی ہے کسی اور جہاں میں طارق

دل کی اک راہگزر آنکھ کے اندر کی طرف​


طارق ہاشمی

No comments:

Post a Comment