چشمِ مشتاق نے یہ خواب عجب دیکھے ہیں
دل کے آئینے میں سو عکس ہیں سب تیرے ہیں
زندگی سے بھی نباہیں، تجھے اپنا بھی کہیں
اس کشاکش میں شب و روز گُزر جاتے ہیں
خانۂ دل میں تھا کیا کیا نہ اُمیدوں کا ہجوم
خانہ ویراں ہے تو راضی بہ رضا بیٹھے ہیں
دولتِ غم بھی خس و خاک زمانہ میں گئی
تم گئے ہو تو مہ و سال کہاں ٹھہرے ہیں
ابھی کچھ دیر نہ ڈوب اے مہ تابانِ فراق
ابھی کچھ خواب بھی جی بھر کے کہاں دیکھے ہیں
محمود ایاز
No comments:
Post a Comment