آپ سمجھیں تو ہمارے عشق کی روداد بھی
داستان قیس بھی ہے،۔ قصۂ فرہاد بھی
دل میں لاکھوں آرزوئیں ہیں ہزاروں حسرتیں
یہ وہ بستی ہے جو ہے برباد بھی آباد بھی
شکریہ اے گردش ایام! تیرے فیض سے
گلستاں بھی ہم نے دیکھا خانۂ صیاد بھی
ان کا بندہ ہو کے بھی ہے پاس خودداری مجھے
میں اسیر عشق بھی ہوں اور ہوں آزاد بھی
اب بدل جائے مزاج حسن بھی تو کیا عجب
راحت جاں ہوتی جاتی ہے کسی کی یاد بھی
راس آئی ہے کہاں مجھ کو فضائے گلستاں
بد گماں ہے باغباں بھی اور ہے صیاد بھی
ہر طرح دلچسپ و دلکش تھا فسانہ عشق کا
داد کے قابل ہے لیکن حسن کی روداد بھی
سحر پریمی
ڈی کے بھلہ(دیویندر کمار بھلہ)
No comments:
Post a Comment