Monday, 12 April 2021

بیکار گیا میں نے جو ہتھیار خریدا

 بے کار گیا میں نے جو ہتھیار خریدا

دشمن نے مِری فوج کا سالار خریدا

جتنے تھے فصیلوں پہ کماندار ملائے

شاہ در کا محافظ پسِ دیوار خریدا

بازار سے ہر رنگ کی دستار خریدی

ہر شہر سے اک اپنا نمک خوار خریدا

ہر جنس مخنث کو کیا اس نے علمدار

ہر صاحبِ شمشیر سے زنگار خریدا

مسجد کے لیے ڈ ھونڈ کے لایا ہے عمامہ

مندر کے لیے قشقہ و زنار خریدا

خوشبو کی تجارت میں منافع بھی بہت تھا

گل چیں نے بہاروں سے چمن زار خریدا

آنکھوں کو رکھا رہن تو دیدار کمایا

دل دے کے خریدا ہے تو دیدار خریدا


کلیم احسان بٹ

No comments:

Post a Comment