بے کار گیا میں نے جو ہتھیار خریدا
دشمن نے مِری فوج کا سالار خریدا
جتنے تھے فصیلوں پہ کماندار ملائے
شاہ در کا محافظ پسِ دیوار خریدا
بازار سے ہر رنگ کی دستار خریدی
ہر شہر سے اک اپنا نمک خوار خریدا
ہر جنس مخنث کو کیا اس نے علمدار
ہر صاحبِ شمشیر سے زنگار خریدا
مسجد کے لیے ڈ ھونڈ کے لایا ہے عمامہ
مندر کے لیے قشقہ و زنار خریدا
خوشبو کی تجارت میں منافع بھی بہت تھا
گل چیں نے بہاروں سے چمن زار خریدا
آنکھوں کو رکھا رہن تو دیدار کمایا
دل دے کے خریدا ہے تو دیدار خریدا
کلیم احسان بٹ
No comments:
Post a Comment