ابھی موسم نہیں بدلا
ابھی موسم نہیں بدلا
ابھی سے گرم کپڑے کس لیے
صندوق میں رکھنے لگی ہو؟
پریشانی تو ہوتی ہے
مگر ایسی بھی کیا
تم نے تو میرا فیکٹری کا پاس بھی
کپڑوں میں دھو ڈالا
دمہ ہے
اور دمہ
دم لے کے جاتا ہے
سو اب جانے ہی والا ہے
دعا آخر دعا ہے
رنگ لاتی ہے
ذرا سننا
یہ تھوڑی سی دوائیں ہیں
نہیں
لانی نہیں ہیں
بچ گئی ہیں
سعید دوشی
No comments:
Post a Comment