وہ لگ گیا ہے جان کو آزار دوستا
بیٹھا ہوا ہوں جان سے بیزار دوستا
صد شکر آستینوں میں پنہاں نہیں ہے کچھ
صد حیف تیرے ہاتھ میں تلوار دوستا
ہم نے سنا تھا تجھ سا مسیحا نہیں کوئی
قسمت کہ وہ بھی راستے اپنے بدل گیا
چھوڑا تھا جس کے واسطے گھر بار دوستا
مجھ تک نہ پہنچتے کبھی یوں دشمنوں کے ہاتھ
ہوتے جو تم سے اور بھی دو چار دوستا
کلیم احسان بٹ
No comments:
Post a Comment