Friday, 16 December 2016

وہ لگ گیا ہے جان کو آزار دوستا

وہ لگ گیا ہے جان کو آزار دوستا
بیٹھا ہوا ہوں جان سے بیزار دوستا
صد شکر آستینوں میں پنہاں نہیں ہے کچھ
صد حیف تیرے ہاتھ میں تلوار دوستا
ہم نے سنا تھا تجھ سا مسیحا نہیں کوئی
ہم نے سنا کہ مر گیا بیمار دوستا
قسمت کہ وہ بھی راستے اپنے بدل گیا
چھوڑا تھا جس کے واسطے گھر بار دوستا
مجھ تک نہ پہنچتے کبھی یوں دشمنوں کے ہاتھ
ہوتے جو تم سے اور بھی دو چار دوستا

کلیم احسان بٹ

No comments:

Post a Comment