آدھا دھڑ انسانوں جیسا آدھا دھڑ تھا پتھر کا
کانے دیو نے نگری نگری منتر پھونکا پتھر کا
پتھر کے پانی سے سارے پتھر کے تالاب بھرے
پہلے پتھر آندھی آئی،۔ مینہ پھر برسا پتھر کا
میں نے جس کے دامن کو خوشبو خوشبو رکھا تھا
پتھر کے پھل پھول تھے سارے پتھر جیسے موسم تھے
پتھر کے اس جنگل میں تھا پتا پتا پتھر کا
اس بت سے ملنے کی خاطر پتھر کا دل کر ڈالو
دیکھو آگ لگاتا ہے پتھر سے ملنا پتھر کا
کلیم احسان بٹ
No comments:
Post a Comment