مقامِ گفتگو آنے سے پہلے
چلا جاتا ہے تو آنے سے پہلے
مِری آنکھوں میں پانی آ گیا تھا
کنارِ آب جو آنے سے پہلے
مزا آئے گا پھر کتنا زیادہ
مِرے اندر بھی اپنی روشنی تھی
تمہارے چار سو آنے سے پہلے
تجھے چھُونا پڑا تو کیا کروں گا
نہ کر لوں کیوں وضو آنے سے پہلے
تمہیں محسوس کر لیتا ہوں اکثر
تمہارے روبرو آنے سے پہلے
کلیم احسان بٹ
No comments:
Post a Comment