اب مجھ کو ڈھونڈنے کا کوئی انتظام کر
خود سے بچھڑ گیا میں تِرا ہاتھ تھام کر
آہستگی سے راہِ تمنا میں رکھ قدم
پھر سیڑھیاں اُتر کہ ہوا میں خرام کر
اُس جھیل سے نکل مِری صبحیں سمیٹ کر
اِس راہ سے گُزر، مِرے جنگل میں شام کر
اپنی خوشی منانے میں اتنا مگن نہ ہو
دیوار و در اُداس ہیں، اُن سے کلام کر
اِس چُپ کی اور کوئی جگہ ہی نہیں کہیں
یہ تیز دھار تیغ لہو میں نیام کر
اِس اعتقادِ ہست میں کچھ بھی نیا نہیں
سارے یقین توڑ دے، پختہ کو خام کر
میرا وجود شہرت و شر سے بچا رہے
مجھ کو مِرے خیال کی دنیا میں عام کر
یہ درد کا بیاں ہے تو جاری رہے سخن
گر زیبِ داستاں ہے تو قصہ تمام کر
مقصود وفا
No comments:
Post a Comment