Thursday, 10 September 2020

میں اندھیرے میں ہوں روشنی دے خدا

میں اندھیرے میں ہوں روشنی دے خدا
آگہی دے خدا، 🙏 آگہی دے خدا
تیرے بندے کا دل بجھ نہ جائے کہیں 
غم دئیے ہیں بہت، کچھ خوشی دے خدا
یا خدا، یا خدا! کی صدا لب پہ ہو
وجد کرتی ہوئی زندگی دے خدا
میں طلب گار دریا کا تجھ سے نہیں 
کب سے  پیاسا ہوں، اک بوند ہی دے خدا
درپہ تیرے رہوں آخری سانس تک
اس طرح کی مجھے بندگی دے خدا
ایک دنیا خودی میں گرفتار ہے 
بیخودی دے خدا، بیخودی دے خدا
ساز قیصر کو تُو نے دیا ہے تو پھر
اس کی آواز کو سوز بھی دے خدا

قیصر شمیم

No comments:

Post a Comment